ذیابطیس کے علاج میں ٹیکنالوجی کا کردار

ذیابطیس کے علاج میں ٹیکنالوجی کا کردار

ذیابطیس کے علاج کے لیے نئی نئی نٹیکنالوجی کا متعارف ہونا ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ چند سالوں میں گلوکوز لیلول چیک کرنے جیسے عام سے عمل میں ہی کافی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ذیابطیس کو اعتدال میں رکھنے کے مختلف رُجحانات یا طریقے کار موجود ہیں۔

آسان دیکھ بھال

جدید ایجادات نے ذیابیطس کے علاج اور گلوکوز لیول کو چیک کرنا نہایت آسا ن بنا دیا ہے۔ جیسے اسمارٹ فون اور سمارٹ واچ جیسے آلات۔ پوری دُنیا میں اسمارٹ فون کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی 50 ملین اسمارٹ فون صارفین موجود ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی حیران کُن بات نہیں کہ اسمارٹ فون لوگوں کی ذیابیطس سے متعلق دیکھ بھال میں اُنکے بہترین مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ اسمارٹ فون میں ایسی ایپلیکیشنز موجود ہیں جو آپکی صحت سے متعلق تمام اعداد و شمار کو ترتیب سے رکھتے ہیں اور علاج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئی معلومات اور رُجحانات بھی آپ تک پہنچاتے ہیں۔

(گلوکوز میٹر (اسمارٹ فون پر مبنی

میڈ ورکس پاکستان میں لایا گلو سیج جو ایک ایسا گلوکوس میٹر ہے جو میڈ ورکس کی موبائل ایپلیکیشن پہ چلتا ہے۔ یہ بہت ہی آسانی سے بالکل کسی پلگ کی طرح اسمارٹ فون میں لگ جاتا ہے۔ بہترین اِسٹرپ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ ذیابطیس کی بالکل دُرست ریڈنگ بتاتا ہے۔ میڈورکس کی ایپلیکیشن اپنے صارفین کو ذیابطیس سے متعلق اُنکا تمام ڈیٹا محفوظ کرنے، دیکھنے اور کسی اور کو بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

(Skin Patch) اِسکن پیچ

گلوکوز کے لیول کو جانچنے اور انسولین کا اِنجیکشن لینے کے لیے بار بار اُنگلی میں سوئی(سرنج) چبھونے کا عمل نہایت ہی مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ خصوصاْ ذیابیطس کے مریضوں کےلیے جنکی جلد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن متحدہ سلطنت یونائیٹڈ کنگڈم کے ساٰئنس دانوں نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے اور اسکن پیچ بنا لیے ہیں جو اسٹیکر کی طرح جلد پر لگائے جاتے ہیں اور ان پر موجود سینسر بنا کوئی سوراخ کئے گلوکوز کی پیمائش ہر 15 منٹ پر کرتے ہیں۔

خاص موزے اور جوتے

ایک معروف کمپنی کے محققین نے خاص طرح کے موزے تیار کیے ہیں جن میں ہیٹ سینسر یعنی حرارت محسوس کرنے والا آلہ نصب ہے۔ یہ خاص موزے پیروں میں ہونے والی سوزش اور جلن کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اِن کے استعمال سے قطع عضو کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ پیروں میں ہونے والی خون کی روانی اور اُس میں ہونے والی کمی بیشی کو بھی فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔ یہ سینسر موبائل فون سے منسلک ہوتے ہیں اورکسی بھی جلن یا سوجن کی صورت میں فوراً خبردار کرتے ہیں۔

ٹیکنالوجی (Implanted) نصب شُدہ

ذیابطیس (ٹائپ 1) کے مریض عام طور پر انجیکشن کے ذریعے انسولین لیتے ہیں۔ یہ نا صرف تکلیف دہ بلکہ ایک مشکل عمل ہے۔ ہارورڈ میں ایسے نصب ہونے والے آلات پر تحقیق جاری ہے جو انسولین پیدا کرتے ہیں۔ جو روزانہ لگنے والے انجیکشن کا بہترین متبادل ہوگا۔

3 Replies to “ذیابطیس کے علاج میں ٹیکنالوجی کا کردار”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *